میں آنسو سے آنکھیں بھگویا کروں گی
تجھے میں خودی میں سمویا کروں گی
نگاہوں میں تجھ کو بسا کر میں اکثر
اکیلے میں چھپ کے رویا کروں گی
تِری اک جھلک خواب میں دیکھنے کو
میں راتوں کو جلدی میں سویا کروں گی
اسے ہو گی نفرت وہ میری بلا سے
محبت کے میں بیج بویا کروں گی
تِری احمقانہ ادائیں بھی واہ، واہ
میں آنکھوں میں ان کو سمویا کروں گی
ادیبہ ملک
No comments:
Post a Comment