ظلمتِ شب کو بہر طور تو ڈھلنا ہو گا
اب ہر اک سیپ سے موتی کو نکلنا ہو گا
سو چکے ہیں جوسبھی خواب جگاؤ لوگو
دل کو تعبیر کی خواہش پہ مچلنا ہو گا
اب تو گِر گِر کے سنبھلنے کا روادار نہیں
ٹھوکروں سے تمہیں ہر بار سنبھلنا ہو گا
اپنے اعصاب کو، جذبات کو فولادی کر
دل اگر موم بنا، اس کو پگھلنا ہو گا
ممتاز ملک
No comments:
Post a Comment