Monday, 5 April 2021

ظلمت شب کو بہر طور تو ڈھلنا ہو گا

 ظلمتِ شب کو بہر طور تو ڈھلنا ہو گا

اب ہر اک سیپ سے موتی کو نکلنا ہو گا

سو چکے ہیں جوسبھی خواب جگاؤ لوگو

دل کو تعبیر کی خواہش پہ مچلنا ہو گا

اب تو گِر گِر کے سنبھلنے کا روادار نہیں

ٹھوکروں سے تمہیں ہر بار سنبھلنا ہو گا

اپنے اعصاب کو، جذبات کو فولادی کر

دل اگر موم بنا، اس کو پگھلنا ہو گا


ممتاز ملک

No comments:

Post a Comment