زندگی بھر رلایا مجھے آپ نے اور آنکھوں میں پانی نہیں چاہیے
غیر کی مہربانی گوارا مجھے،۔ آپ کی مہربانی نہیں چاہیے
اب نئے راستے کی مسافر ہوں میں اس لیے راستے پر مِرے دل کو اب
داغ کوئی پرانا نہیں چاہیے،۔ چوٹ کوئی پرانی نہیں چاہیے
یا تو تم مجھ سے اب بولنا چھوڑ دو اور بولو تو پھر بات یہ سوچ لو
کوئی جھوٹا فسانہ نہیں چاہیے،۔ کوئی جھوٹی کہانی نہیں چاہیے
وعدہ کرتی ہوں تجھ کو بھُلا دونگی میں تیرے سارے خطوں کو جلا دونگی میں
سن لے او بے وفا! مجھ کو تیری طرح تیری کوئی نشانی نہیں چاہیے
تیری خوشبو سے جو دن مہکتا نہ ہو، تیری باتوں سے جو رات روشن نہ ہو
دن بھی وہ مجھ کو ہرگز نہیں چاہیے، رات بھی وہ سہانی نہیں چاہیے
ممتاز نسیم
No comments:
Post a Comment