بالآخر
اور جب وہ چلی
لوگ بولے کہ جھلّی ہے، پاگل ہے، مینٹل ہے یہ
اور، اُس نے سُنا تو ہنسی
انگلیوں سے وہ دیوار پر، دو لکیریں بناتی چلی ہی گئی
لکیریں جو دیوار پر چند نقطوں کے موہوم سے فاصلے سے اکٹھی چلی جا رہی تھیں
دما دم رواں، بے رکے، آگے
آگے ہی آگے
نہ ملنے کی خاطر
کہ ملنا تو حرفِ آخر نہیں
نسرین انجم بھٹی
No comments:
Post a Comment