Monday, 19 April 2021

اور جب وہ چلی لوگ بولے کہ جھلی ہے پاگل ہے

 بالآخر


اور جب وہ چلی

لوگ بولے کہ جھلّی ہے، پاگل ہے، مینٹل ہے یہ

اور، اُس نے سُنا تو ہنسی

انگلیوں سے وہ دیوار پر، دو لکیریں بناتی چلی ہی گئی

لکیریں جو دیوار پر چند نقطوں کے موہوم سے فاصلے سے اکٹھی چلی جا رہی تھیں

دما دم رواں، بے رکے، آگے

آگے ہی آگے

نہ ملنے کی خاطر

کہ ملنا تو حرفِ آخر نہیں


نسرین انجم بھٹی

No comments:

Post a Comment