Saturday, 24 April 2021

یہ عمر بھر کا سفر ہے اسی سہارے پر

 یہ عمر بھر کا سفر ہے اسی سہارے پر

کہ وہ کھڑا ہے ابھی دوسرے کنارے پر

اندھیرا ہجر کی وحشت کا رقص کرتا ہے

تمام رات مِری آنکھ کے ستارے پر

ہوائے شام تِرے ساتھ ہم بھی جھُومتے ہیں

کسی خیال کسی رنگ کے اشارے پر

کسی کی یاد ستائے تو جا کے رکھ آنا

مہکتے پھُول کسی آبجُو کے دھارے پر

اُفق کے پار ازل سے اک آگ روشن ہے

یہ سارا کھیل ہے اس آگ کے شرارے پر


صابر وسیم

No comments:

Post a Comment