آئی قریب شام تو ایسا لگا چراغ
اپنی ہی روشنی سے نہیں آشنا چراغ
سکتے میں لوگ آ گئے روشن ہُوا خیال
جیسے سبھی کے واسطے منظر ہُوا چراغ
الفاظ ان کے دینے لگے روشنی تمام
تعریف میں چراغ کی جب بھی کہا چراغ
ماتھے پہ تھا پسینہ بدن بھی تھا چُور چُور
تھا گیسُوؤں میں رات کی اُلجھا ہوا چراغ
تھا اس کے تیوروں میں جنُوں انقلاب کا
جو آندھیوں کے طاق میں جلتا رہا چراغ
وحشت کے دائرے میں کئی زندگی تمام
جُگنُو کی زندگی کو میں لکھتا رہا چراغ
اے عکس کھڑکیوں کو کُھلا چھوڑ دے ذرا
کمرے کے بند گھیروں سے گھبرا گیا چراغ
عکس لکھنوی
No comments:
Post a Comment