ٹھہرے گا جانے کیسے زمانے کی دھارمیں
’’وہ کم نظر جو آنکھ نہ کھولے غُبار میں ‘‘
آنکھوں میں تاب ہے نہ زباں میں ہے چاشنی
جلوہ کہاں سے آئے نظر کے حِصار میں
پِٹتا ہے جب کسی سے تو بکتا ہے اول فول
انسان بڑبڑاتا ہے اکثر بخار میں
نا آشنا بھی اُنگلی نچاتے ہیں بیچ میں
خاصا دباؤ ہوتا ہے قینچی کی دھار میں
ارتھی پہ میری پُھول دِکھانے کو رکھ دئیے
خُوشبو ذرا نہ آئی کبھی جن کے پیار میں
رکھو نہ ان سے دیش کی سیوا کی تم اُمید
زہریلے ہیں یہ، زہر بھرا ہے وِچار میں
رکھتے ہیں ناگ پال کے اب آستیں میں لوگ
دن ان کا گھر میں کٹتا ہے، اور رات بار میں
قُدرت نے جس میں رکھ دی ہے سچائیوں کی آب
ساگر! وہ جگمگائے گا گرد و غُبار میں
ڈاکٹر وکرم ساگر
No comments:
Post a Comment