Friday, 23 April 2021

یہ بار غم بھی اٹھایا نہیں بہت دن سے

 یہ بار غم بھی اٹھایا نہیں بہت دن سے

کہ اس نے ہم کو رُلایا نہیں بہت دن سے

چلو کہ خاک اڑائیں چلو شراب پئیں

کسی کا ہجر منایا نہیں بہت دن سے

یہ کیفیت ہے میری جان اب تجھے کھو کر

کہ ہم نے خود کو بھی پایا نہیں بہت دن سے

ہر ایک شخص یہاں محوِ خواب لگتا ہے

کسی نے ہم کو جگایا نہیں بہت دن سے

یہ خوف ہے کہ رگوں میں لہو نہ جم جائے

تمہیں گلے سے لگایا نہیں بہت دن سے


اظہر اقبال

No comments:

Post a Comment