Friday, 16 April 2021

ایک بھٹکی صدا سا رہتا ہوں

ایک بھٹکی صدا سا رہتا ہوں

آج کل بے پتہ سا رہتا ہوں

گھر مِرے دل میں بھی رہا نہ کبھی

گھر میں میں بھی ذرا سا رہتا ہوں

چاند سے روز آنکھ لڑتی ہے

میں بھی چھت پہ پڑا سا رہتا ہوں

کوئی پوچھو تو مدعا کیا ہے؟

میں جو سب سے خفا سا رہتا ہوں

کر سکو تو مِری تلاش کرو

ان دنوں میں ہوا سا رہتا ہوں


دھرو نرائن گپت

Dhruv Narain Gupt​

No comments:

Post a Comment