کتنے ہی بے گناہوں کی پھر جان لیتے ہیں
اندھے شکار کرنے کی جب ٹھان لیتے ہیں
اتنا بھی کوئی کان کا کچا کبھی نہ ہو
اتنا کہ کوئی کچھ بھی کہے مان لیتے ہیں
حالات تنگ بعد میں ہوتے ہیں عشق میں
پہلے پہل تو سب اسے آسان لیتے ہیں
اپنے ہی ہیں ہمارے تعاقب میں، اور ہم
رکھے ہوئے بھرم رہِ سنسان لیتے ہیں
سائے کی اور جسم کی پہچان ایک ہے
شاعر کو لوگ شعر سے پہچان لیتے ہیں
کل تک میاں جو رہتے تھے غالب مزاجی میں
وہ آج ایرے غیرے کا احسان لیتے ہیں
توحید زیب
No comments:
Post a Comment