Sunday, 11 April 2021

کتنے ہی بے گناہوں کی پھر جان لیتے ہیں

 کتنے ہی بے گناہوں کی پھر جان لیتے ہیں

اندھے شکار کرنے کی جب ٹھان لیتے ہیں

اتنا بھی کوئی کان کا کچا کبھی نہ ہو

اتنا کہ کوئی کچھ بھی کہے مان لیتے ہیں

حالات تنگ بعد میں ہوتے ہیں عشق میں

پہلے پہل تو سب اسے آسان لیتے ہیں

‏اپنے ہی ہیں ہمارے تعاقب میں، اور ہم

رکھے ہوئے بھرم رہِ سنسان لیتے ہیں

سائے کی اور جسم کی پہچان ایک ہے

شاعر کو لوگ شعر سے پہچان لیتے ہیں

کل تک میاں جو رہتے تھے غالب مزاجی میں

وہ آج ایرے غیرے کا احسان لیتے ہیں


توحید زیب

No comments:

Post a Comment