Sunday, 11 April 2021

کھلے ہیں پھول اسی رنگ کی ستائش میں

 کھلے ہیں پھول اسی رنگ کی ستائش میں

جو بے مثال رہا آپ اپنی تابش میں

وہ ایک دن ہی مِری زندگی کا حاصل ہے

کہ میرے پاس کوئی رک گیا تھا بارش میں

بس ایک جھیل ہے اور پیڑ کا گھنا سایا

سلگ رہے ہیں کئی لوگ جن کی خواہش میں

کبھی ہوا جو کہیں پر غزل سرا میں بھی

تو میرے یار جلے ہیں حسد کی آتش میں

میں جس کو سوچتا رہتا ہوں رات دن احمد

اسی نے رنگ بھرے ہیں مِری نگارش میں


عتیق احمد

No comments:

Post a Comment