Sunday, 18 April 2021

غم سے جب دو چار ہوتا ہی نہیں

 غم سے جب دو چار ہوتا ہی نہیں

آدمی بیدار ہوتا ہی نہیں

وہ تو رسماً پوچھ لیتے ہیں مگر

ہم سے پھر انکار ہوتا ہی نہیں

یہ کسی مزدور سے مت پوچھنا

ان کے ہاں اتوار ہوتا ہی نہیں

رات بھی ہو اور سورج بھی رہے

یوں تو میرے یار ہوتا ہی نہیں

کس طرح کہہ لیتے ہیں وہ دل کی بات

ہم سے تو اظہار ہوتا ہی نہیں

سامنے سے وار ہو گا، جب ہُوا

ہم سے چھُپ کر وار ہوتا ہی نہیں

صرف اچھا ہوتا ہے کردار بس

یا تو پھر کردار ہوتا ہی نہیں

یہ خدا کی خاص نعمت ہے اسد

ہر کسی کو پیار ہوتا ہی نہیں


اسد اقبال ​

No comments:

Post a Comment