Saturday, 17 April 2021

وادی وادی صحرا صحرا پھرتا رہا میں دیوانہ

حرف


وادی وادی صحرا صحرا پھرتا رہا میں دیوانہ

کوہ ملا

تو دریا بن کر اس کا سینہ چیر کے گزرا

صحراؤں کی تند ہواؤں میں لالہ بن کر جلتا رہا

دھرتی کی آغوش ملی

تو پودا بن کر پھوٹا

جب آکاش سے نظریں ملیں

تو طائر بن کے اڑا

غاروں کے اندھیاروں میں میں چاند بنا

اور آکاش پہ سورج بن کر چمکا

پھر بھی میں دیوانہ رہا

اپنے سپنوں خوابوں کی الٹی سیدھی تصویر بنائی

ٹیڑھی میڑھی لکیریں کھینچیں

لیکن جب اک حرف ملا

گویا نور کی کرنیں میرے دو ہونٹوں میں سمٹ آئی ہیں

میں یہ چراغ الہ دیں لے کر

غاروں کے اندھیاروں میں کھوئے ہوئے موتی ڈھونڈ رہا ہوں


اعجاز فاروقی​

No comments:

Post a Comment