اپنی نیندوں میں کئی خواب جگاتی ہوئی میں
جاگ جاتی ہوں مگر تجھ کو بھُلاتی ہوئی میں
ہاتھ غیروں کی طرف دیکھ بڑھاتا ہوا تُو
تجھ سے ملنے کو تِری بزم میں آتی ہوئی میں
دوستی خارِ مغیلاں سے مِرے آبلوں کی
دُھوپ کو دشت میں پھر دُھول چٹاتی ہوئی میں
سُوئے گرداب نکل جاؤں گی ساحل سے پرے
تیرے اکرام سے اب خود کو بچاتی ہوئی میں
عشق در عشق وفاؤں کے سلاسل بنتی
اپنی راہوں میں کئی خار بچھاتی ہوئی میں
ہوں نسیمِ سحری جان یوں گلشن کے لیے
تیری راہوں میں سدا پھُول کھِلاتی ہوئی میں
نسیم بیگم
No comments:
Post a Comment