رہِ جنون میں ایسے بھی دن گزرتے ر ہے
کہ شام ٹھہر گئی اور دشت چلتے رہے
ہمیں تو ایک ہی سجدے نے پائمال کیا
وہ کون لوگ تھے جن کے خدا بدلتے رہے
رہا ہے دامنِ دل بھی اسی سبب سے تہی
کہ ہم سوال کسی پارسا سے کرتے رہے
کہاں پھر ایسے سفینوں کا مل سکا ہے سراغ
بھنور کے ساتھ جہاں ناخدا بدلتے رہے
سفر وفا کا تھا پانی سے اجتناب کیا
فراتِ اشک بھی ہر چند ساتھ بہتے رہے
علی اکبر ناطق
No comments:
Post a Comment