مِری ہجرت کو نہ کہہ نقل مکانی جیسی
میں نے چھوڑی ہے وہاں عمر جوانی جیسی
پیاس کے طرح مجھے چاہنے والا دیکھے
میری حالت بھی ہے ترسے ہوئے پانی جیسی
حسنِ ترتیب کا رکھا ہے حوادث نے خیال
میری روداد بھی لگتی ہے کہانی جیسی
کاش اس شہر کا نقشہ ہی بدل دے کوئی
جس کی ہر چیز لگے تیری نشانی جیسی
عذر تو اس نے بھی بھیجا ہے پرانے والا
بات تو میں نے بھی مانی ہے نہ مانی جیسی
بابر علی اسد
No comments:
Post a Comment