سنو لڑکی
میں اندر سے ادھورا ہوں
میں بالکل نامکمل ہوں
سو مجھ کو چاہ کر تم کو
ملے گا کچھ نہیں دیکھو
میں اک بنجر زمیں ہوں اور
کبھی بنجر زمینوں پر
کسی نے کاشت کی ہے کیا؟
مِری مانو، چلی جاؤ
تم اپنا راستہ ناپو
تمہارے ساتھ رہنے کا
مِرا کب فیصلہ ہو گا
چلی جاؤ کہ میں دُکھ ہوں
وہ اندھا دُکھ
جو محفل میں بھی آ ٹپکے
مجھے چاہنے نہ چاہنے سے
کسی کو کچھ نہیں ملتا
خدارا واپسی کا تم ٹکٹ لے لو
ضروری ہے
ضروری ہے چلی جاؤ
میں کہتا ہوں چلی جاؤ
کہ مجھ سے کچھ نہیں ملنا
خدارا کچھ نہیں ملنا
راشد خان عاشر
No comments:
Post a Comment