Friday, 2 July 2021

مجھ سے کچھ نہیں ملنا

 سنو لڑکی

میں اندر سے ادھورا ہوں

میں بالکل نامکمل ہوں

سو مجھ کو چاہ کر تم کو

ملے گا کچھ نہیں دیکھو

میں اک بنجر زمیں ہوں اور

کبھی بنجر زمینوں پر

کسی نے کاشت کی ہے کیا؟

مِری مانو، چلی جاؤ

تم اپنا راستہ ناپو

تمہارے ساتھ رہنے کا

مِرا کب فیصلہ ہو گا

چلی جاؤ کہ میں دُکھ ہوں

وہ اندھا دُکھ

جو محفل میں بھی آ ٹپکے

مجھے چاہنے نہ چاہنے سے

کسی کو کچھ نہیں ملتا

خدارا واپسی کا تم ٹکٹ لے لو

ضروری ہے

ضروری ہے چلی جاؤ

میں کہتا ہوں چلی جاؤ

کہ مجھ سے کچھ نہیں ملنا

خدارا کچھ نہیں ملنا


راشد خان عاشر

No comments:

Post a Comment