ہاتھ تلوار بھی ہو سکتے ہیں
سر، سرِ دار بھی ہو سکتے ہیں
ان پرندوں کے شور کرنے سے
سانپ بیدار بھی ہو سکتے ہیں
تم کو دیکھا تو یہ یقین ہوا
پھول بے خار بھی ہو سکتے ہیں
آج جو ناز اٹھاتے ہیں تِرے
کل کو بیزار بھی ہو سکتے ہیں
ڈوبتے وقت مجھ کو دھیان آیا
ہاتھ پتوار بھی ہو سکتے ہیں
عشق میں سرد، گرم، موسم ہے
آپ بیمار بھی ہو سکتے ہیں
کیوں خوشی اور غم منائیں ہم
اور تہوار بھی ہو سکتے ہیں
آج جو قتل کرنے آئیں ہیں
کل مِرے یار بھی ہو سکتے ہیں
بے مکانی کا سبب تو شہزاد
در و دیوار بھی ہو سکتے ہیں
سلیم شہزاد
No comments:
Post a Comment