Saturday, 3 July 2021

تصویر بن کے فریم کے شیشے میں رہ گیا

 تصویر بن کے فریم کے شیشے میں رہ گیا

تُو کیا گیا کہ وقت بھی سکتے میں رہ گیا

ہاتھوں میں لے کے آ گئی میں چوڑیاں مگر

تُو چاہیے تھا، تُو وہیں میلے میں رہ گیا

اس کو تو روٹھنا تھا بچھڑنا تھا، سو ہوا

جانے یہ درد کیوں میرے سینے میں رہ گیا

جس کے بغیر میں کئی حصوں میں بٹ گئی

کیا تھا جو مجھ سے ریل کے ڈبے میں رہ گیا

اس زلزلے میں میں ہی نہیں ٹوٹ کر گری

تُو بھی وہیں کہیں کسی ملبے میں رہ گیا

وحشت، سفر، تلاش، جنوں، رقص، تشنگی

میرا بدن یہ کیسے بگولے میں رہ گیا

امید کی جب آخری قندیل بجھ گئی

رستہ بھٹک کے چاند اندھیرے میں رہ گیا


قندیل بدر

No comments:

Post a Comment