کاغذ پہ دل کے مشقِ کِتابت نہیں کرتے
ہم عقل کے اندھوں کی امامت نہیں کرتے
قُرآن سے ان لوگوں کو کچھ بھی نہیں مِلتا
جو طاق پہ رکھتے ہیں، تلاوت نہیں کرتے
دُشمن کا بھلا چاہنا سنّت ہے، مگر ہم
خُود اپنے رفیقوں کی عیادت نہیں کرتے
ہر حال میں اﷲ سے راضی بہ رضا ہیں
’’ہم اپنے مُقدر کی شکایت نہیں کرتے ‘‘
مقبول کبھی ان کی عبادت نہیں ہوتی
ماں باپ کی جو لوگ اطاعت نہیں کرتے
نظروں کو سدا رکھتے ہیں میزان کی صُورت
مکّاروں کی ہم لوگ حمایت نہیں کرتے
رہ رہ کے بدلتا ہے مزاج آپ کا، توبہ
دِیوانے محبت میں تجارت نہیں کرتے
دنیا میں کئی لوگ تو مظلوم کے حق میں
ہمدردی دِکھاتے ہیں، عنایت نہیں کرتے
تا عمر زمانے میں بھٹکتے ہیں وہ کامل
جو اپنے اصولوں کی حفاظت نہیں کرتے
ریاض الدین کامل
No comments:
Post a Comment