Wednesday, 5 January 2022

اس سے پہلے کہ کوئی اور ہٹا دے مجھ کو

 اس سے پہلے کہ کوئی اور ہٹا دے مجھ کو

اپنے پہلو سے کہیں دور بٹھا دے مجھ کو

میں سخن فہم کسی وصل کا محتاج نہیں

چاندنی رات ہے اک شعر سنا دے مجھ کو

خودکشی کرنے کے موسم نہیں آتے ہر روز

زندگی اب کوئی رستہ نہ دکھا دے مجھ کو

ایک یہ زخم ہی کافی ہے میرے جینے کو

چارہ گر ٹھیک نہ ہونے کی دوا دے مجھ کو

یوں تو سورج ہوں مگر فکر لگی رہتی ہے

وہ چراغوں کے بھرم میں نہ بجھا دے مجھ کو

تجھ کو معلوم نہیں عشق کسے کہتے ہیں

اپنے سینے پہ نہیں دل میں جگہ دے مجھ کو

ہر نئے شخص پہ کھل جانے کی عادت موہن

دینے والے سے کہو تھوڑی انا دے مجھ کو


بال موہن پانڈے

No comments:

Post a Comment