Sunday, 16 January 2022

کچھ دن ہوئے کہ شہر تمنا اداس ہے

 کچھ دن ہوئے کہ شہرِ تمنا اُداس ہے

دل کیا اُجڑ گیا ہے کہ دُنیا اداس ہے

گہنا گیا ہے جب سے مِرے گھر کا آفتاب

تاروں کا روپ، چاند کا چہرا اداس ہے

لگتا ہے تتلیوں کے کوئی رنگ لے اُڑا

لگتا ہے جگنوؤں کا اُجالا اداس ہے

کہتے ہیں ایک شخص کی دنیا اُجاڑ کر

نادم ہے، شرمسار ہے، دریا اداس ہے

دو لخت ہو گیا ہے جہانِ تصورات

آدھے میں چہل پہل ہے، آدھا اداس ہے

اب دیکھتا ہے مجھ کو تو کہتا ہے آئینہ

بچہ بچھڑ گیا ہے تو بوڑھا اداس ہے

عاجز کسی بھی حال میں شکوہ روا نہیں

کیا تُو بھرے جہاں میں اکیلا اداس ہے؟


مشتاق عاجز

No comments:

Post a Comment