کھڑکیاں مت کھول جنسِ جاں اٹھا لے جائے گا
گھر کے گھر کو شہر کا ریلا بہا لے جائے گا
سب نمک احساس کا، ساری حلاوت زخم کی
آنے والے دن کا ڈر سارا مزہ لے جائے گا
اس برستی رات کا یہ آخری آنسو بھی کل
مجھ سے چاہت اس کی آنکھوں سے وفا لے جائے گا
کشتِ دل کو چاٹ لے گا کرم دنیا اور پھر
بچ رہے گا کچھ تو وہ سیل ہوا لے جائے گا
جل بجھے گا اک نہ اک دن سب کا سب شہرِ وفا
رہ گئی اک راکھ سو پانی بہا لے جائے گا
تیز تر طوفاں کی آہٹ اور یہاں مٹی نہ آگ
اب اسے آنے بھی دو یہ مجھ سے کیا لے جائے گا
وہ مِرا سفاک دشمن لاکھ میں غافل نہ ہوں
خود مِرے گھر سے مجھے اک دن بلا لے جائے گا
نشتر خانقاہی
No comments:
Post a Comment