Tuesday, 11 January 2022

درد کا کوئی انت نہیں ہے

 درد کا کوئی انت نہیں ہے

اس میں جیون پگھلا جائے

دور گلی کے نُکڑ پر

زرد اداسی کا ڈیرا ہے

اور لیمپ پوسٹ کی روشنی میں

تنہائی کا بسیرا ہے

آنگن میں جب اترے پرندے

یادوں کا چوگا ختم ہوا

خالی کٹورا درد بھرا تھا

درد کا کوئی انت نہیں ہے


عالیہ مرزا

No comments:

Post a Comment