Monday, 3 January 2022

بے طلب بے سبب پڑے ہوئے ہیں

 بے طلب، بے سبب پڑے ہوئے ہیں

کیسی مشکل میں سب پڑے ہوئے ہیں

اب ہواؤں پہ آئے ہے بوسہ

گو رسائی میں لب پڑے ہوئے ہیں

جن سوالوں سے آگ پھیلنا تھی

وہ ابھی زیر لب پڑے ہوئے ہیں

میرے پیچھے سگانِ کوچۂ جہل

تب پڑے تھے اور اب پڑے ہوئے ہیں

جانور اور پرند عیش میں ہیں

وہ جو تھے منتخب، پڑے ہوئے ہیں


سعید سادھو

سعید قریشی

No comments:

Post a Comment