Tuesday, 18 January 2022

فکر کے سارے دھاگے ٹوٹے ذہن بھی اب معذور ہوا

 فکر کے سارے دھاگے ٹوٹے ذہن بھی اب معذور ہوا

اب کے بہار یہ کیسی آئی،۔ کیسا یہ دستور ہوا

کل پرزوں کا روح رواں یہ اور وہ سرمائے کی جونک

لیکن اس کی نظروں میں یہ دھرتی کا ناسور ہوا

دن کی سفیدی تیری نظر میں رات کی کالی چادر ہے

رات کا خونی اندھیارہ بھی تیری نظر میں نور ہوا

جب سے دیکھا ہے کھیتوں میں میں نے ظالم دھوپ کا روپ

تب سے تیری زلف کا سایہ دور بہت ہی دور ہوا

ظلم کو اس نے ظلم کہا ہے جبر کو اس نے جبر کہا

یعنی ضیا اب ضیا نہیں ہے وقت کا وہ منصور ہوا


احمد ضیا 

No comments:

Post a Comment