ہنستی ہوئی حسینہ کو مت ویشیا سمجھ
سن گاؤں زاد! شہر کی آب و ہوا سمجھ
اس بے سبب گریز سے بڑھ جائے گی طلب
آ، بیٹھ میرے پاس، مرا مسئلہ سمجھ
کب تک چلے گا عقل کی انگلی پکڑ کے دل
اب خود ہی اپنا یار تُو اچھا برا سمجھ
کرتا ہے رہنمائی جو راہِ حیات میں
اس کو خدا نہ جان مگر نا خدا سمجھ
ہر حسنِ بے مثال کو ہے احتیاجِ دید
لیکن تو دیکھنے کا طریقہ ذرا سمجھ
آرائشِ جمال کو مت جان رائیگاں
میں دور ہوں مگر تو مجھے دیکھتا سمجھ
دنیا میں صرف خود کو ہی آسی خراب جان
خود کے علاوہ سارے جہاں کو بھلا سمجھ
قمر آسی
No comments:
Post a Comment