Tuesday, 11 January 2022

لو اترنے لگی خواب کے جسم میں

 دو صفر ایک سات


لَو اترنے لگی

خواب کے جسم میں

جسم کی روح میں

لب کو چُھوتی رہی

آیتوں کی لڑی

وِرد کرتی رہی

سانس کی ڈور میں

گرد اُڑتی رہی

دُھند بادل میں وہ

گھومتا ہی رہا

جھومتا ہی رہا

میں جو صفر میں تھی

ایک صفر کے صفر میں جیتی رہی

تیری ہوتی رہی

لب سے کہتی رہی

سن مجھے آج تو

میں خلاؤں کی جانب سفر میں رہی

تو بگولہ کوئی

مجھ کو پڑھتا رہا

وِرد چلتا رہا

جسم سے روح میں

عشق پلتا رہا

اور سلگتا رہا

برف کہسار میں

دودھیا دو بدن

ہو سے ہو تک گگن

میں کہیں بھی نہیں

تُو کہیں بھی نہیں

تو یہ کس نے چراغوں کے پیچھے کھڑے

جگنوؤں سے بھرے

ایک ساتھ آسمانوں کے پھیرے لیے

چُھو کے پوروں سے سجدے سفر میں کیے


تمثیل حفصہ

No comments:

Post a Comment