دل کے کہنے میں نہ دیوانے کہیں آ جانا
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
بھری محفل میں مجھے لوٹ لیا ہو جیسے
مجھ پہ پڑتے ہی نظر ہائے وہ شرما جانا
اف تِری زلف بکھرنے کا وہ قاتل منظر
رخ پہ لہرانا، وہ لہراتے ہی بل کھا جانا
اب تو لے دے کے تِری یاد کا ہے ایک ہی کام
بار بار آنا اور آ کر مجھے تڑپا جانا
شکر ہے خیر یہ منزل تو میسر آئی
اپنی ہستی کو تِرے حسن کا پردا جانا
خاک ہی کیوں ہمیں در در کی اڑانا پڑتی
یہ بڑی بھول ہوئی جو تجھے اپنا جانا
ہم تِری سادہ مزاجی ہی کہیں گے اس کو
آپ ہی آپ وہ کچھ سوچ کے گھبرا جانا
وہ اندھیروں میں بھٹکنے ہی لگا کیوں جس نے
مشعلِ راہ تِرا نقشِ کفِ پا جانا
اے شفق! پوچھو نہ کیا دل پہ مِرے بیت گئی
دور ہی سے وہ مجھے دیکھ کے کترا جانا
شفق چشتی
No comments:
Post a Comment