میں اس سے ملنا چاہتا ہوں
انہی یعنی وبائی دنوں میں
یہ سوچ کر کہ
وبا سے ساری دنیا
مر چکی ہے
زمین نامی سیارے پر
صرف ہم دو ہی زندہ
بچے ہیں
میں اس سے ملنا چاہتا ہوں
یہ سوچ کر کہ
موت کا پہریدار
ہمیں ملتے ہوئے دیکھے
تو لمبی عمر کی دعا دے
اور واپس پلٹ جائے
میں اس سے ملنا چاہتا ہوں
اس وقت تک
جب تک کہ
سٹریٹ لائٹ مجھے
گالیاں دے کر
وہاں سے بھگا نہ دے
ذیشان راٹھور
No comments:
Post a Comment