Wednesday, 13 April 2022

کرنے والا ہوں اک غزل ایجاد

 کرنے والا ہوں اک غزل ایجاد

میر بولیں گے مرحبا شہزاد

جس کا اپنا ضمیر مردہ ہے

وہ بھی کہتا ہے ملک زندہ باد

دس کتابیں ہی چھوڑ کر جاتے

کتنے کمبخت تھے مِرے اجداد

سب امیدوں کا خون کر کے کہا

جا، پرندے! تجھے کِیا آزاد

تیری یادوں سے نبض چلتی تھی

ایک دن روک لی گئی امداد


شہزاد مہدی

No comments:

Post a Comment