کرنے والا ہوں اک غزل ایجاد
میر بولیں گے مرحبا شہزاد
جس کا اپنا ضمیر مردہ ہے
وہ بھی کہتا ہے ملک زندہ باد
دس کتابیں ہی چھوڑ کر جاتے
کتنے کمبخت تھے مِرے اجداد
سب امیدوں کا خون کر کے کہا
جا، پرندے! تجھے کِیا آزاد
تیری یادوں سے نبض چلتی تھی
ایک دن روک لی گئی امداد
شہزاد مہدی
No comments:
Post a Comment