Thursday, 14 April 2022

امید وصل اس سے خدا کی قسم نہیں

امیدِ وصل اس سے خدا کی قسم نہیں

کہتے ہیں عرض بوسہ پہ وہ دم بہ دم نہیں

اس کا طواف کرتے ہیں عشاق روز و شب

کوئے صنم بھی رتبے میں کعبہ سے کم نہیں

حوروں کا تجھ میں حسن ہے پریوں کی شوخیاں

اے بت! قسم خدا کی کسی سے تو کم نہیں

یاں درد دل سے مجھ کو نہیں چین اب گھڑی

ان کو قرار شوخیوں سے ایک دم نہیں

نازاں ہوں اپنے بخت سیہ پر نہ کس طرح

یہ تیرگی میں یار کی زلفوں سے کم نہیں

آنکھیں جو رونے میں تو تڑپنے میں دل ہے فرد

وہ ابر سے تو یہ کسی بجلی سے کم نہیں

اپنے لیے میں ان سے رکھوں اب امید کیا

سنتا ہوں مرگ غیر کا کچھ ان کو غم نہیں

جو کام ان کے لب سے وہ تیرے قدم سے ہو

ٹھوکر بھی تیری کچھ قم عیسیٰ سے کم نہیں

کس دم نہیں ہے یار کی تیغِ نگہ کی یاد

کس وقت میرے قتل کا ساماں بہم نہیں

ہم بے وفائیاں نہ کریں گے عدو کی طرح

تم کو وہی خیال عبث ہے وہ ہم نہیں

آنکھیں جو روئیں ہجر میں اک حشر ہو بپا

یہ دو حباب نوح کے طوفاں سے کم نہیں

ممنون ہوں خدا کی عنایت کا اے فہیم

راحت کا میرے کون سا ساماں بہم نہیں


فہیم گورکھپوری

No comments:

Post a Comment