Thursday, 14 April 2022

ہائے اوئے اس تن کی ہانڈی ساڑ کڑھے

 ہائے اوئے، اس تن کی ہانڈی ساڑ کڑھے

ہائے اوئے، دریا کا پانی پیر پڑے

ہائے اوئے، چٹان گری سناٹے کی

ہائے اوئے، اس ہونٹ کے آگے کون اڑے

ہائے اوئے، زنجیریں چوم رہا ہوں میں

ہائے اوئے، کھڑکی کی چٹھی کون پڑھے

ہائے اوئے، لچکیلی نرم کلائی ہے

ہائے اوئے، دو کڑ کڑ کرتے کانچ کڑے

ہائے اوئے، ہم ڈوب چلے تنہائی میں

ہائے اوئے اک ہاتھ ہماری سمت بڑھے

ہائے اوئے، دل بہلے کیا مجبوری سے

ہائے اوئے، اب تھپکی دے یا تھاپ جڑے

ہائے اوئے، اس نور حضور کا جلوہ ہے

ہائے اوئے، سر گھوم رہے اور تاپ چڑھے

ہائے اوئے، میں لکھنا پڑھنا بھول گیا

ہائے اوئے، قسمت کی تختی اور نڑے

ہائے اوئے، اک گریہ پُنگرے آنکھوں میں

ہائے اوئے، یا پہلی تہہ کا ماس جھڑے


علی زیرک

No comments:

Post a Comment