Friday, 15 April 2022

اس سے تسلیم بس یوں ہی سی ہے

اس سے تسلیم بس یوں ہی سی ہے

برف احساس کی جمی سی ہے

چلئے احباب کو تو جان گئے

یہ مصیبت تو عارضی سی ہے

کچھ تو چارہ گری کرے کوئی

آج کچھ درد میں کمی سی ہے

آج چپکے سے کس کی یاد آئی

دل کے آنگن میں چاندنی سی ہے

کس نے ترک وفا کیا پہلے

یہ شکایت بھی باہمی سی ہے

حسرتو اب تو ہو چلو خاموش

نبض بیمار کی تھمی سی ہے

عمر گزری جسے بیاں کرتے

وہ کتھا اب بھی ان کہی سی ہے


عرفان احمد وحید

No comments:

Post a Comment