کردار مختصر تھا کہانی میں ہم بھی تھے
دو چار دن تو قصۂ فانی میں ہم بھی تھے
ہر شخص ہم سے خوش رہے ممکن نہیں ہے یہ
ڈوبوں کو یہ گِلہ ہے کہ پانی میں ہم بھی تھے
رائے بنانے والے، ذرا رفتگاں سے پوچھ
کچھ آئینوں کا خواب جوانی میں ہم بھی تھے
پھر زندگی نے دفعتاً مطلع بدل دیا
پہلے پہل تو مصرعۂ ثانی میں ہم بھی تھے
دیوار پر لگا کے ہٹائی بھی اس نے خود
تصویر تھی پرانی، پرانی میں ہم بھی تھے
لگتا ہے لکھ کے بھول گیا ہے ہمیں قلم
کوئی اسے بتائے کہانی میں ہم بھی تھے
یہ بات اور ہے کہ وہ مشہور ہو گیا
مجنوں کے ساتھ دشت مکانی میں ہم بھی تھے
کس منہ سے اب زمانے کو ابرک برا کہیں
اپنے خلاف شعلہ بیانی میں ہم بھی تھے
اتباف ابرک
No comments:
Post a Comment