Wednesday, 20 April 2022

کردار مختصر تھا کہانی میں ہم بھی تھے

 کردار مختصر تھا کہانی میں ہم بھی تھے

دو چار دن تو قصۂ فانی میں ہم بھی تھے

ہر شخص ہم سے خوش رہے ممکن نہیں ہے یہ

ڈوبوں کو یہ گِلہ ہے کہ پانی میں ہم بھی تھے

رائے بنانے والے، ذرا رفتگاں سے پوچھ

کچھ آئینوں کا خواب جوانی میں ہم بھی تھے

پھر زندگی نے دفعتاً مطلع بدل دیا

پہلے پہل تو مصرعۂ ثانی میں ہم بھی تھے

دیوار پر لگا کے ہٹائی بھی اس نے خود

تصویر تھی پرانی، پرانی میں ہم بھی تھے

لگتا ہے لکھ کے بھول گیا ہے ہمیں قلم

کوئی اسے بتائے کہانی میں ہم بھی تھے

یہ بات اور ہے کہ وہ مشہور ہو گیا

مجنوں کے ساتھ دشت مکانی میں ہم بھی تھے

کس منہ سے اب زمانے کو ابرک برا کہیں

اپنے خلاف شعلہ بیانی میں ہم بھی تھے


اتباف ابرک

No comments:

Post a Comment