Wednesday, 20 April 2022

جہاں کی حقیقت کی کس کو خبر ہے

 دنیا


جہاں کی حقیقت کی کس کو خبر ہے

فریبِ نظر تھی،۔ فریبِ نظر ہے

یہی پھول کی زیست کا ماحصل ہے

کہ اس کا تبسم ہی اس کی اجل ہے

نہ سمجھو کہ چشمِ حسیں سُرمگیں ہے

نہیں، قبر کی تیرگی کی امیں ہے

یہ کیا کہہ رہے ہو کہ ندی رواں ہے

سمندر سے پوچھو، کہاں تھی، کہاں ہے

نہ سمجھو کہ ہے کیف پرور یہ نغمہ

شکن ہے ہوا کی جبیں پر یہ نغمہ

کہاں دھڑکنیں ہیں دلِ زار کی یہ

صدائیں ہیں اک ٹوٹتے تار کی یہ

یہ ہستی کا دریا بہا جا رہا ہے

ہم آہنگ سیلِ فنا جا رہا ہے

پھنسے کچھ انوکھے قرینوں میں ہیں ہم

حبابوں کے نازک سفینوں میں ہیں ہم

یہ کیا ہے، یہ کیوں ہے، خبر کیا، خبر کیا

مِرے تیرہ ادراک کی ہو سحر کیا

مِری بزمِ دل میں نہیں روشنی کیوں؟

ہے بےصید میری نگہ کی انی کیوں؟

یہ دنیا ہے میری کہ مرقد ہے میرا؟

یہاں بھی اندھیرا، وہاں بھی اندھیرا


مجید امجد

No comments:

Post a Comment