Friday, 15 April 2022

میرے سر پر سوار تھوڑی ہے

 میرے سر پر سوار تھوڑی ہے

ایک دشمن ہے یار تھوڑی ہے

اک تناسب سے مجھ کو ملتا ہے

رزق ہے ماں کا پیار تھوڑی ہے

سر جھکا کر نہیں اُٹھا کر مانگ

یہ ہے مسجد، مزار تھوڑی ہے

یار! اس دل کو کون دیکھتا ہے

کوئی کوٹھی یا کار تھوڑی ہے

تم کو ظاہر ہے لوگ دیکھیں گے

خواب پر اختیار تھوڑی ہے

چھوڑ کر مجھ کو جا بھی سکتا ہے

یار ہے یارِ غار تھوڑی ہے

تجھ سے پہلے جو وقت گزرا تھا

زندگی میں شمار تھوڑی ہے

پھول آئے ہیں تیرے آنے سے

ورنہ، موسمِ بہار تھوڑی ہے

مجھ سے پہلے ہے زندگی تیری

پانچ کے بعد چار تھوڑی ہے

دیکھ جنت ہے ماں کے قدموں میں

آسمانوں کے پار تھوڑی ہے

مسئلہ ہے کوئی بصارت میں

آئینے پر غبار تھوڑی ہے

عشق میں اک قرار تھا، لیکن

عشق اب برقرار تھوڑی ہے

میرا ہمدرد ایک میں ہی ہوں

کوئی لمبی قطار تھوڑی ہے


ندیم راجہ

No comments:

Post a Comment