روند ڈالا ہے جنہوں نے پیار کے جذبات کو
وہ سمجھتے کیوں نہیں ہیں میرے دل کی بات کو
داغِ فرقت، درد، کلفت، یاسیت، رنج و الم
سہہ رہے ہیں دیکھیے ہم ہجر کے صدمات کو
آنکھ میں جو بجلیاں سی کوندتی ہیں آج کل
کس طرح سے آنسوؤں کی روکتے برسات کو
وہ جفا کا طوق پہنا کر ہمیں رخصت ہوئے
اب وفائیں بھی ہوا دینے لگیں خدشات کو
ان کی یادیں ذہن میں سسکاریاں بھرتی رہیں
جھیلتا ہے دل مسلسل کرب کے لمحات کو
آس کا پنچھی اندھیروں میں اڑے گا کیا نزی
روشنی بھی ہمنوا بنتی کہاں ہے رات کو
نازیہ حسن نزی
No comments:
Post a Comment