Wednesday, 13 April 2022

شکستگی سے سفر کے ہنر نکالتے ہیں

 شکستگی سے سفر کے ہنر نکالتے ہیں

کہ خاکِ خواب سے خوابِ دگر نکالتے ہیں

ہمارے حوصلے دیکھو قدم قدم کیسے

تمہارے قامتِ قسوت سے سر نکالتے ہیں

گِرا گِرا کے وہ بارود ہار جائے گا

ہم اک نگاہ میں ملبے سے گھر نکالتے ہیں

کس اوجِ شوق سے زیرِ زمیں اترتے ہیں

اور اپنی خاک سے شمس و قمر نکالتے ہیں

متاعِ اہلِ وفا اک یہی سر و سودا

ہو جس طرح کی بھی دیوار، در نکالتے ہیں

یہی قلم کی ہے رو، بجھ نہ پائے لفظ کی لو

ورق ورق رہِ نو بے خطر نکالتے ہیں

سخن کی شبنمی بوندوں سے سنگ سینوں میں

کٹھن ہے راہ نکلنا مگر نکالتے ہیں

گھلے فضا میں جو شیریں صدا پرندوں کی

شجر بھی شہد سے میٹھے ثمر نکالتے ہیں

وہ دل جو عشق بہاؤ بہیں، وہی عالی

کسی وبال بھنورنے کا ڈر نکالتے ہیں


جلیل عالی

No comments:

Post a Comment