Tuesday, 12 April 2022

اے حسن زمانے کے تیور بھی تو سمجھا کر

 اے حسن زمانے کے تیور بھی تو سمجھا کر

اب ظلم سے باز آ جا، اب جور سے توبہ کر

ٹوٹے ہوئے پیمانے بے کار سہی، لیکن

میخانے سے اے ساقی! باہر تو نہ پھینکا کر

جلوہ ہو تو جلوہ ہو، پردہ ہو تو پردہ ہو

توہین تجلی ہے چلمن سے نہ جھانکا کر

اربابِ جنوں میں ہیں کچھ اہلِ خِرد شامل

ہر ایک مسافر سے منزل کو نہ پوچھا کر


فنا نظامی کانپوری

No comments:

Post a Comment