Tuesday, 12 April 2022

تم نے کتنی دیر لگا دی آنے میں

 دیری


کچی عمر میں چہرے پر جُھریاں دِکھتی ہیں

ہنستا ہوں تو گالوں کے اوپر کا ماس لٹک جاتا ہے

بھرپور جوانی ہے اور 

چار قدم چلنے سے سانس اکھڑتا ہے

آنکھیں رستہ تکتے تکتے 

پِچھلی عمر کو جا پہنچی ہیں

دیکھو

تم نے کتنی دیر لگا دی آنے میں


شوزب حکیم

No comments:

Post a Comment