عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
کربل کتھا
بہر تسلیم و رضا لکھی گئی
داستان کربلا لکھی گئی
کیسے کیسے شاہزادوں کے لیے
ریگزاروں کی ہوا لکھی گئی
فاختاؤں کے پروں کے واسطے
ایک جُھلساتی فضا لکھی گئی
دشتِ سوزاں کی سُلگتی لوح پر
پیاسے بچوں کی کتھا لکھی گئی
چند ننھی کوئلوں کی راگنی
مرثیہ در مرثیہ لکھی گئی
دو بریدہ بازوؤں کے خون سے
اک کتابِ با وفا لکھی گئی
جب بہتّر رنگ یکجا ہو گئے
تب کہیں کربل کتھا لکھی گئی
چکیوں کی لوریاں سنتے تھے جو
ان کے حق میں کربلا لکھی گئی
جب مقدر نے لکھا اعلامیہ
اس میں اک لُٹتی ردا لکھی گئی
کوچہ و بازار میں، دربار میں
اک کہانی جا بجا لکھی گئی
زینبؑ دلگیر! تیری داستاں
کربلا در کربلا لکھی گئی
داستانِ دُختران فاطمہؑ
ابتداء تا انتہا لکھی گئی
چادر زینبؑ کی، ہائے! داستاں
برسر ارض و سما لکھی گئی
بیبیوں کی، وائے وہ کربل کتھا
جو میانِ اشقیاء لکھی گئی
دل ہوا سی پارہ تب جا کر کہیں
نور میں ڈوبی دعا لکھی گئی
جو ہوا بیمار زین العابدینؑ
اس کی قسمت میں شفا لکھی گئی
مومنوں کے نامۂ اعمال میں
خواہشِ کرب و بلا لکھی گئی
شجاعت علی راہی
No comments:
Post a Comment