Sunday, 14 August 2022

خواب دیرینہ کو ہوتے ہوئے پورا دیکھوں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


خوابِ دیرینہ کو ہوتے ہوئے پورا دیکھوں 

کاش! میں بھی کبھی مکہ و مدینہ دیکھوں

پہلے جی بھر کے میں اسلام کا کعبہ دیکھوں 

جا کے طیبہ پھر اسی کعبے کا قبلہ دیکھوں

جا کے مکہ کبھی حجاج کا ریلا دیکھوں 

آ کے طیبہ کبھی عشاق کا دریا دیکھوں 

آنکھ لگ جائے تو انؐ کا رخِ زیبا دیکھوں 

آنکھ کھل جائے تو بس گنبدِ خضرا دیکھوں 

جب سمجھ ہی میں نہ آئے کہ کہاں جاؤں اب

با وضو صحن میں گنبد کو دمکتا دیکھوں 

روزہ رکھتے ہوئے میں آپؐ کا فاقہ سوچوں

اور افطار میں بے ساختہ روضہ دیکھوں

جتنے مشتاق ہیں سب کو یہ زیارت ہو عطا

یہ دعا دل سے کروں، جونہی میں کعبہ دیکھوں 

سعئ مشکور کی خاطر میں پیوں جب زمزم

کبھی دیکھوں میں صفا اور کبھی مروہ دیکھوں

ٹکٹکی باندھ کے جو کعبے کو دیکھے جائے 

مسکراتے ہوئے اس بندے کا چہرہ دیکھوں

ملتزم سے کبھی چمٹوں، کبھی چکر کاٹوں 

کبھی کعبے سے لپٹتا ہوا پردہ دیکھوں

شدتِ عشق میں ڈھل کر کبھی عرفہ جاؤں 

حدتِ غیظ میں جل کر کبھی جمرہ دیکھوں

سامنے کعبے کے سجدے میں نکل جائے روح

پھر بلندی سے میں گولائی میں سجدہ دیکھوں

جاؤں اک بار اسامہ! تو نہ آؤں واپس

واپس آ جاؤں تو واپس یہی جا جا دیکھوں


اسامہ سرسری

No comments:

Post a Comment