Saturday, 3 December 2022

اٹھ جائے گر یہ بیچ سے پردہ حجاب کا

 اٹھ جائے گر یہ بیچ سے پردہ حجاب کا

دریا ہی پھر تو نام ہے ہر اک حباب کا

کیوں چھوڑتے ہو دُردِ تہِ جام مے کشو

ذرہ ہے یہ بھی آخر اسی آفتاب کا

ایسی ہوا میں پاس نہ ساقی نہ جامِ مے

رونا بجا ہے حال پہ میرے سحاب کا

ہونا تھا زندگی ہی میں منہ شیخ کا سیاہ

اس عمر میں ہے ورنہ مزا کیا خضاب کا

اس دشتِ پر سراب میں بہکے بہت پہ حیف

دیکھا تو دو قدم پہ ٹھکانا تھا آب کا

زاہد! مریضِ عشق پہ ہو شربِ مے حرام

بارے یہ مسئلہ ہے تِری کس کتاب کا؟

جوں سرمہ کیوں نہ چشم میں قائم کو ہو جگہ

آخر وہ خاکِ پا ہے شہِ بُوتراب کا


قائم چاند پوری

No comments:

Post a Comment