زخم آلے ہوئے ہیں چھِل چھِل کے
چاک ہوتے رہے یہ سِل سِل کے
جاں بلب ہو گئے ہیں ہم، لیکن
ولولے کم نہیں ہوئے دِل کے
کیوں مراسم بڑھائے تھے ہم سے
تم کو ہونا تھا گر جدا مِل کے
درمیاں کون پھُوٹ ڈال گیا
ہم تو اب تک رہے تھے گھُل مِل کے
ہم چلے جائیں گے کہیں آگے
کر کے روشن چراغ منزِل کے
سلسلہ جائے گا قیامت تک
معرکے ہوں گے حق و باطِل کے
کچھ تو ہم بولتے ہی کم ہیں نواز
کچھ یہ آداب بھی ہیں محفِل کے
شاہنواز سواتی
No comments:
Post a Comment