Tuesday, 11 June 2024

ہے پیش نظر صدق کے شہکار کا چہرا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے پیشِ نظر صدق کے شہکار کا چہرا

اصحابِ پیمبرﷺ کے علم دار کا چہرا

دیتی ہیں گواہی کئی آیاتِ الٰہی

آئینہ ہے صدیق کے کردار کا چہرا

صدیق نے جس طرح انہیں غار میں دیکھا

دیکھا نہ کسی یار نے یوں یار کا چہرا

صدیق کو سرکار کے ہمراہ جو دیکھا

خورشید سا روشن ہوا اک غار کا چہرا

اے صدق و وفا! بہرِ خدا اتنا بتا دے

دیکھا ہے کہیں ایسے طرح دار کا چہرا

اعدائے ابوبکر کو ہنگامِ قیامت

کیا آئے نظر رحمتِ غفار کا چہرا

جو کچھ بھی میسر تھا کیا نذرِ پیمبر

بوبکر نے روشن کیا ایثار کا چہرا

قربت کا یہ اعجاز تھا جب غار سے نکلے

تھا یار کے چہرے کی طرح یار کا چہرا

یہ فیضِ ابوبکر ہے فاضل کہ لحد میں

پہچان گیا میں شہِ ابرار کا چہرا


فاضل میسوری

No comments:

Post a Comment