عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
ہوا چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
کہ سانپ، زہر چھڑکتا رہا چنبیلی پر
شبِ فراق! میری آنکھ کو تھکن سے بچا
کہ نیند وار نہ کر دے تیری سہیلی پر
ہوا چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
کہ سانپ، زہر چھڑکتا رہا چنبیلی پر
شبِ فراق! میری آنکھ کو تھکن سے بچا
کہ نیند وار نہ کر دے تیری سہیلی پر