Monday, 1 June 2015

عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر

عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
ہوا چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
کہ سانپ، زہر چھڑکتا رہا چنبیلی پر
شبِ فراق! میری آنکھ کو تھکن سے بچا
کہ نیند وار نہ کر دے تیری سہیلی پر

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا 
کہ پیرہن تو گیا تھا، بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترکِ تعلق کروں تو مر جاؤں
بدن سے روح کا اس درجہ اشتراک ہوا
یہی کہ سب کی کمانیں ہمیں پہ ٹوٹی ہیں
چلو حسابِ صفِ دوستاں تو پاک ہوا

تجھ پر بھی فسوں دہر کا چل جائے گا آخر

تجھ پر بھی فسوں دہر کا چل جائے گا آخر
دُنیا کی طرح تو بھی بدل جائے گا آخر
پھیلی ہے ہر اِک سمت حوادث کی کڑی دھوپ
پتھر ہی سہی، وہ بھی پِگھل جائے گا آخر
اَے میرے بدن! روح کی دولت پہ نہ اِترا
یہ تیر بھی ترکش سے نکل جائے گا آخر

رشتہ تشنہ لبی وقت سے جوڑا جائے

رِشتہ تشنہ لبی وقت سے جوڑا جائے
لمحے لمحے کی رگِ جاں کو نچوڑا جائے
لطف تو جب ہے سفر کا کہ مِرے ہمسفرو
اپنے سائے کو بھی رَستے میں نہ چھوڑا جائے
دل تجھے بھولنا چاہے بھی تو مشکل یہ ہے
کس طرح سانس کی زنجیر کو توڑا جائے

کچھ تو عہد خوں فشانی اور ہے

کچھ تو عہدِ خوں فشانی اور ہے
کچھ مِری آنکھوں نے ٹھانی اور ہے
وسعتِ صحرائے عالم سے ادھر
دشتِ غم کی بیکرانی اور ہے
یا ادھوری ہے گواہی عشق کی
یا پھر اس کی بدگمانی اور ہے

مستقل درد کی پوشاک پہن کر آئے

مستقل درد کی پوشاک پہن کر آئے
کوچۂ یار سے ہم خاک پہن کر آئے
اب یہ گستاخ نگاہوں سے شکایت کیسی
پیرہن آپ ہی بے باک پہن کر آئے
دل جو ٹکڑوں میں بٹا ہے تو عجب کیا اس میں
ہم لبادہ بھی تو صد چاک پہن کر آئے

سچ ہے عالی جناب ہوتا نہیں

سچ ہے عالی جناب ہوتا نہیں
دوستوں میں حساب ہوتا نہیں
جس کا ہر ایک پَل سہانا ہو
زندگی کوئی خواب ہوتا نہیں
جو حقیقت ہو صاف کہتا ہوں
مجھ سے پاسِ حجاب ہوتا نہیں