صبح ہے اور شام کا ہونا نہیں
موت بھی انجام کا ہونا نہیں
اس گلی میں روشنی ہو بھی تو کیا
اس چراغِ بام کا ہونا نہیں
دل اگر ہو جائے بھی کچھ کام کا
ہے جہاں میرا طوافِ صبح و شام
اس جگہ احرام کا ہونا نہیں
اس پرندے کی نظر ہے سب سے تیز
وہ پرندہ دام کا ہونا نہیں
پھول ہے اور پھول اس کے ہاتھ میں
پھول پر پیغام کا ہونا نہیں
ہیں کہانی میں ہوا، طاق اور چراغ
پر کہیں بھی شام کا ہونا نہیں
اشرف یوسفی
No comments:
Post a Comment