Thursday, 7 April 2016

صبح ہے اور شام کا ہونا نہیں

صبح ہے اور شام کا ہونا نہیں 
موت بھی انجام کا ہونا نہیں
اس گلی میں روشنی ہو بھی تو کیا 
اس چراغِ بام کا ہونا نہیں
دل اگر ہو جائے بھی کچھ کام کا 
اب کسی کے کام کا ہونا نہیں
ہے جہاں میرا طوافِ صبح و شام 
اس جگہ احرام کا ہونا نہیں
اس پرندے کی نظر ہے سب سے تیز
وہ پرندہ دام کا ہونا نہیں
پھول ہے اور پھول اس کے ہاتھ میں 
پھول پر پیغام کا ہونا نہیں
ہیں کہانی میں ہوا، طاق اور چراغ 
پر کہیں بھی شام کا ہونا نہیں

اشرف یوسفی

No comments:

Post a Comment