آپ میں بھی ہے خُو محبت کی
دیکھئیے ہے نا بات حیرت کی
ہم نے تو خود میاں محبت کی
آپ نے کس سے یہ روایت کی
پیڑ کا رنگ دیکھتے تم لوگ
آگئے اشک چل کے آنکھوں تک
آگئی پھر گھڑی وہ رخصت کی
یہ زرِ عشق ہے مقدر سے
قیس نے کون سی عبادت کی
ہر کڑی سے کڑی ملی ہوئی تھی
اک کہانی سنی تھی اس چھت کی
پھر پھٹا بادباں سِیا میں نے
ٹوٹی کشتی تھی پھر مرمت کی
ایک سجدہ بھی درمیان پڑا
جب رخِ یار کی تلاوت کی
اشرف یوسفی
No comments:
Post a Comment