سرخ گوں لَو سی بغل گیر ہوئی شعلے سے
بجھتے بجھتے وہ جو تنویر ہوئی شعلے سے
میں دعا کرتا تھا اس پیڑ کی شاخیں بھر جائیں
اور مِرے خواب کی تعبیر ہوئی شعلے سے
لے گئی ساتھ اڑا کر خس و خاشاک ہوا
آتشیںِ لب کو تِرے رنگ نہیں ملتے تھے
تشنگی تھی مِری تصویر ہوئی شعلے سے
چاک سے اترا تو میں آگ سے گزرا اشرفؔ
پختگی کی مِری تعمیر ہوئی شعلے سے
اشرف یوسفی
No comments:
Post a Comment