یہ کُن کے ساتھ چلی تھی ہوا اُداسی کی
ازل کے دن سے ہوئی ابتدا اداسی کی
یہ رات اس کے کناروں پہ بیٹھ جاتی ہے
دل ایک شمع جلاتا ہے کیا اداسی کی
پھر ایک صبح پرندوں کی چپ نہ دیکھی گئی
مہک رہے ہیں کہیں پر تو نرگس و سوسن
کہیں تو ہے نہ کسی دل میں جا اداسی کی
گیا تو سینہ فگارانِ عشق اٹھ کے مِلے
پلٹ کے آیـا تو باہیں تھیں وا اداسی کی
پڑا ہے عالمِ بست و کشاد میں درویش
کھُلی ہے سامنے حیرت سرا اداسی کی
اشرف یوسفی
No comments:
Post a Comment